آپکے دور خلافت میں ایک دفعہ دو عورتیں کچھ مالی مدد لینے کے لئے حاضر ہوئیں۔ان میں سے ایک عرب تھی اوردوسری خادمہ اسرائیلی تھی۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان دونوں کی برابر مدد فرمائی۔ عرب عورت نے اسے اپنے وقار کے خلاف سمجھا کہ اسکی حوصلہ افزائی زیادہ کیوں نہ کی گئی۔اس عورت نے جب اسکا اظہار کیا تو حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ”میں نے قرآن کریم میں غور کیا ہے اس میں مجھے اولاد اسماعیل علیہ السلام کی اولاد اسحاق علیہ السلام پر کوئی فضیلت نہیں ملی“۔اب اگر سوچا جائے تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود عرب ہونے کے ساتھ ساتھ بنو اسماعیل علیہ السلام ہی میں سے تھے۔اورجس عورت نے یہ سوال پیدا کیا اسکا تعلق بھی بنو اسماعیل علیہ السلام سے تھا۔
اس نے ادھر توجہ دلا کر آپکو ایک جاہلی جذبے کی طرف کھینچنا چاہا۔مگر آپکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی راست بازی اور عدل و انصاف کے کیا کہنے ۔ ۔ ۔فوراً اسکی اصلاح کی کہ قرآن ہمیں جاہلی رعائت نہیں دیتا۔شعوب وقبائل صرف تعارف کے لئے ہیں بڑائی کے لئے نہیں۔اللہ رب العزت کے ہاں زیادہ عزت اسکی ہے جو ایمان و تقوی میں اونچا ہے۔یہی وہ خصوصیات تھیں جن کی وجہ سے امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تاریخ عدل و انصاف اور حسن قضاکی ایک کھلی کتا ب بن کر مثل آفتاب چمک اور دمک رہی ہے۔

No comments:
Post a Comment