Wednesday, 19 October 2016

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خلا فت

خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ قاتلانہ حملہ میں شیدزخمی ہونے کے بعد جب دنیا سے رخصت ہونےلگے تو صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم نے ان سے درخواست کی کہ آپ رضی اللہ عنہ اپناجانشین وخلیفہ مقرر فرمادیں۔ سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ” عشرہ مبشرہ “ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں سے چھ نا مور شخصیات، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ، حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو نامزدہ کرکے ” خلیفہ “ کے انتخاب کاحکم دیا۔ بالآخر حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے خفیہ رائے شماری کے ذریعہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد کیا۔ 
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے 24 میں نظام خلافت سنبھالا اور خلیفہ مقرر ہوئے تو شروع میں آپ رضی اللہ عنہ نے 22لاکھ مربع میل پر حکومت کی۔ اس میں سے بیشتر ممالک فتح ہوچکے تھے لیکن ابھی یہاں مسلمان مستحکم نہیں ہوئے تھے اور خطرہ تھا کہ یہ ممالک اور ریاستیں دوبارہ کفر کی آغوش میں نہ چلی جائیں لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فوج کو جدید عسکری انداز میں ترتیب دیا اور آپ رضی اللہ عنہ ہی کے دور خلافت میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسلام کاپہلا بحری بیڑا تیار کرکے ” بحر اوقیانوس “ میں اسلام کا عظیم لشکر اتاراتھا۔ 
اسلامی فوجوں نے عثمانی دور میں ہی سندھ مکران، طبرستان اور کابل سمیت متعدد ایشیائی ممالک فتح کئے اور اسلامی حکومت یورپ کی سرحد تک پہنچ گئی۔ آپ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مملکت اسلامیہ میں انتظامی اور رفاعی شعبوں کا اجراء ہوا اور ہرعلاقہ میں سستے انصاف کی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تمام صوبوں کے گورنر، قاضی اور ارکان دولت کی چھان پھٹک کرکے نہایت زیرک اور محنتی حاکم مقرر کرتے تھے۔ 

1 comment: