آپکے دور خلافت میں ایک دفعہ دو عورتیں کچھ مالی مدد لینے کے لئے حاضر ہوئیں۔ان میں سے ایک عرب تھی اوردوسری خادمہ اسرائیلی تھی۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان دونوں کی برابر مدد فرمائی۔ عرب عورت نے اسے اپنے وقار کے خلاف سمجھا کہ اسکی حوصلہ افزائی زیادہ کیوں نہ کی گئی۔اس عورت نے جب اسکا اظہار کیا تو حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ”میں نے قرآن کریم میں غور کیا ہے اس میں مجھے اولاد اسماعیل علیہ السلام کی اولاد اسحاق علیہ السلام پر کوئی فضیلت نہیں ملی“۔اب اگر سوچا جائے تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود عرب ہونے کے ساتھ ساتھ بنو اسماعیل علیہ السلام ہی میں سے تھے۔اورجس عورت نے یہ سوال پیدا کیا اسکا تعلق بھی بنو اسماعیل علیہ السلام سے تھا۔
اس نے ادھر توجہ دلا کر آپکو ایک جاہلی جذبے کی طرف کھینچنا چاہا۔مگر آپکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی راست بازی اور عدل و انصاف کے کیا کہنے ۔ ۔ ۔فوراً اسکی اصلاح کی کہ قرآن ہمیں جاہلی رعائت نہیں دیتا۔شعوب وقبائل صرف تعارف کے لئے ہیں بڑائی کے لئے نہیں۔اللہ رب العزت کے ہاں زیادہ عزت اسکی ہے جو ایمان و تقوی میں اونچا ہے۔یہی وہ خصوصیات تھیں جن کی وجہ سے امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تاریخ عدل و انصاف اور حسن قضاکی ایک کھلی کتا ب بن کر مثل آفتاب چمک اور دمک رہی ہے۔
Islam Quester
Wednesday, 19 October 2016
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت
ابن سعد رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اس حالت میں دیکھا کہ دوپہر کے وقت مسجد نبوی ﷺ کے صحن میں کچی اینٹ کا تکیہ سرکے نیچے رکھے ہوئے آپ رضی اللہ عنہ آرام فرما رہے ہیں۔ (اب کثیرجلد 7ص 213)
خلیفہ سوم سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو مصر کے بلوائی شہید کرنے کے درپے تھے اور تقریباََ ساڑھے سات سو بلوائیوں نے مدینہ منورہ پر قبضہ کرلیا۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم نے باغیوں کا سرکاٹنے کی اجازت چاہی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ مجھ سے یہ نہ ہوگا کہ حضور ﷺ کا خلیفہ ہوں اور خود ہی آپ ﷺ کی امت کاخون بہاؤں۔
ایک موقعہ پر حضورﷺ نے فرمایا تھا۔ اے عثمان ! اللہ تعالیٰ تجھے ایک قمیص پہنائیں گے (خلافت عطا کریں گے )۔ جب منافق اسکواتارنے کی کوشش کریں تو اس کو مت اتارنایہاں تک کہ مجھے آملو (شہید ہوجاؤ ) ۔ چنانچہ آخری وقت میں جب باغیوں اور منافقوں نے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھ سے حضور اقدس ﷺ نے عہدلیا تھا چنانچہ میں اس عہد پر قائم ہوں اور صبر کررہا ہوں۔ 35 ذیقعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے گھر کے محاصرہ کیا۔ دوران محاصرہ باغیوں نے چالیس روز تک آپ رضی اللہ عنہ کا کھانااور پانی بند کردیا اور 18ذوالحجہ کو چالیس روز سے بھوکے پیاسے 82 سالہ مظلوم مدینہ، خلیفہ سوم عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو جمعہ المبارک کے روز، قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے روز ہ کی حالت میں انتہائی بے دردی کے ساتھ شہید کردیا گیا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے 12 دن کم 12سال تک 44لاکھ مربع میل کے وسیع وعریض خطہ پر اسلامی سلطنت قائم کرنے اور نظام خلافت کو چلانے کے بعد جام شہادت نوش کیا۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خلا فت
خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ قاتلانہ حملہ میں شیدزخمی ہونے کے بعد جب دنیا سے رخصت ہونےلگے تو صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم نے ان سے درخواست کی کہ آپ رضی اللہ عنہ اپناجانشین وخلیفہ مقرر فرمادیں۔ سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ” عشرہ مبشرہ “ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں سے چھ نا مور شخصیات، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ، حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو نامزدہ کرکے ” خلیفہ “ کے انتخاب کاحکم دیا۔ بالآخر حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے خفیہ رائے شماری کے ذریعہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد کیا۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے 24 میں نظام خلافت سنبھالا اور خلیفہ مقرر ہوئے تو شروع میں آپ رضی اللہ عنہ نے 22لاکھ مربع میل پر حکومت کی۔ اس میں سے بیشتر ممالک فتح ہوچکے تھے لیکن ابھی یہاں مسلمان مستحکم نہیں ہوئے تھے اور خطرہ تھا کہ یہ ممالک اور ریاستیں دوبارہ کفر کی آغوش میں نہ چلی جائیں لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فوج کو جدید عسکری انداز میں ترتیب دیا اور آپ رضی اللہ عنہ ہی کے دور خلافت میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسلام کاپہلا بحری بیڑا تیار کرکے ” بحر اوقیانوس “ میں اسلام کا عظیم لشکر اتاراتھا۔
اسلامی فوجوں نے عثمانی دور میں ہی سندھ مکران، طبرستان اور کابل سمیت متعدد ایشیائی ممالک فتح کئے اور اسلامی حکومت یورپ کی سرحد تک پہنچ گئی۔ آپ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مملکت اسلامیہ میں انتظامی اور رفاعی شعبوں کا اجراء ہوا اور ہرعلاقہ میں سستے انصاف کی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تمام صوبوں کے گورنر، قاضی اور ارکان دولت کی چھان پھٹک کرکے نہایت زیرک اور محنتی حاکم مقرر کرتے تھے۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کوجنت کی بشارت
جنت کی بشارت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو
سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ایک مدت تک ” کاتب وحی ” جیسے جلیل القدرمنصب پر بھی فائزرہے اس کے علاوہ حضور اقدس ﷺ کے خطوط وغیرہ بھی لکھا کرتے تھے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی یہ حالت تھی کہ رات کو بہت تھوڑی دیر کیلئے سوتے تھے اور تقریباََ تمام رات نماز وعبادت میں مصروف رہتے آپ رضی اللہ عنہ صائم الدہر“ تھے ،سوائے ایام ممنوعہ کے کسی دن روزہ کاناغہ نہ ہوتا تھا۔ جس روز آپ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اس دن بھی آپ رضی اللہ عنہ روزے سے تھے۔ ہر جمعتہ المبارک کو دو غلام آزاد کرتے ۔ ایک مرتبہ سخت وقحط پڑا تمام لوگ پریشان تھے اسی دوران حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ایک ہزار اونٹ غلے سے لدے ہوئے آئے تو مدینہ کے تاجروں نے کئی گناہ زائد قیمت پر یہ غلہ خریاند چاہا لیکن آپ رضی اللہ عنہ سے فرمایا، میں تم سب لوگوں کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے یہ سب غلہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ” فقراء مدینہ “ کو دیدیا۔ جب حضور اقدس ﷺ مکہ سے مدینہ منورہ ہجرت کرکے تشریف لائے تو آپ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم کو میٹھے پانی کیلئے بڑی وقت وتکلیف تھی، صرف ایک میٹھے پانی کا کنواں ” بئر رومہ“ تھا۔ جو ایک یہودی کی ملکیت میں تھا جو مہنگے داموں پانی فروخت کیاکرتا تھا۔ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اس کنویں کوخرید کر اللہ کے راستہ میں وقف کردے اس کیلئے جنت کی بشارت وخوشخبری ہے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس کنویں کو خرید کر وقف کردیا۔
حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ امیہ بن خلف
حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ امیہ بن خلف حجمی کے غلام تھے۔ حضرت بلال کے والد کا نام رباح اور والدہ کا نام حمامہ تھا اور وہ بھی امیہ کے غلام تھے۔ امیہ بن خلف بہت دولت مند آدمی تھا اس کے کئی بیٹے اور بارہ غلام تھے۔ لیکن وہ حضرت بلال کو سب سے زیادہ چاہتا تھا اور اس نے ان کو اپنے بت خانے کا نگران بنا رکھا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے جب حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایمان کی دولت سے مالا مال کیا تو وہ بت خانے میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے۔ دوسرے تمام لوگ بتوں کو سجدہ کرتے لیکن حضرت بلال اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے تھے۔ جب امیہ کو اس کی خبر ہوئی تو وہ غصے کی حالت میں آیا اور پوچھنے لگا کیا تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رب کو سجدہ کرتے ہو؟ حضرت بلال نے جواب دیامیں اس اللہ کو سجدہ کرتا ہوں جو ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ امیہ اس بات پر آگ بگولا ہوگیا اور آپ پر تشدد کرنے لگا۔
جب سورج نصف النہار پر آجاتا اور گرمی کی تپش سے زمین تنور کی مانند گرم ہو جاتی تو حضرت بلال کو مکہ مکرمہ کے کھلے میدان میں لے جایا جاتا اور ننگا کر کے گرم تپتی ریت پر سخت دھوپ میں ہاتھ پاوٴں باندھ کر ڈال دیا جاتا۔ اور ایسے گرم پتھر کہ جن پر گوشت بھن جائے ان کے سینہ مبارک، پشت اور پہلو پر رکھے جاتے۔ پھر جسم پر گرم گرم ریت ڈالی جاتی اور سخت تکلیف دی جاتی۔ لیکن تمام تکالیف کے باوجود حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبان مبارک پر احد احد کے الفاظ جاری ہوتے یعنی میں اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کرتا ہوں۔ کبھی آپ کو کانٹوں پر کھینچتے یہاں تک کہ کانٹے ان کے گوشت پوست میں سے گزرتے اور ان کی ہڈیوں کو لگتے مگر آپ احد احد پکارتے۔
Subscribe to:
Comments (Atom)

